نائلہ راٹھور ۔۔۔ خودفراموشی

خودفراموشی
۔۔۔۔
ضروری نہیں
جنہیں ہم زندگی سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں
ان کے لئے بھی ہم اتنے ہی اہم ہوں
کبھی کبھی ہم ساتھ تو ہوتے ہیں
لیکن محسوس نہیں ہوتے
وقت کے پلوں کے نیچے سے پانی گزر جاتا ہے
خامشی روح میں گھر کر لیتی ہے
زیست تنہا پسند ہو جاتی ہے
ہم خود کو اتنا اکیلا کر لیتے ہیں
کہ ہمیں خود کی بھی ضرورت نہیں رہتی
اپنی ذات سے لاتعلقی
بھی کبھی کبھی نعمت لگتی ہے
درد ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا
ہجر و فراق کے موسم طبیعت پر گراں نہیں گزرتے
جذبوں پر بے حسی کی دھند یوں چھا جاتی ہے
کہ احساسات سے وابستہ ہر منظر دھندلا لگتا ہے
ہم اپنی تنہائی کا ہاتھ تھامے
اپنے آج سے گریزاں
گزشتہ زمانوں کے سحر میں گم جئیے جاتے ہیں
وقت ہم پر ہنستا ہے
زندگی ہمیں گزار دیتی ہے

Related posts

Leave a Comment